Categories
Home News PSP News

میرا پاکستان کے حکمرانوں سے کوئی مطالبہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے نہیں بدلنا مصطفی کمال

میرا پاکستان کے حکمرانوں سے کوئی مطالبہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے نہیں بدلنا مصطفی کمال

 

*مؤرخہ: 12 جولائی، 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میرا پاکستان کے حکمرانوں سے کوئی مطالبہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے نہیں بدلنا۔ پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کرنا اپنا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عوام اب حکمرانوں سے امید لگانا چھوڑ دیں۔وزیر اعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس اور ریاست کے تمام اداروں نے موجودہ حکومت چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور ریاست نے سندھ کے لوگوں کو پیپلزپارٹی کے رحم و کرم پہ چھوڑا ہوا ہے۔ پاکستان جس شاخ (کراچی) پر بیٹھا ہے، سب اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں۔ اگر کراچی ڈوب رہا ہے تو پورا ملک ڈوب رہا ہے۔ دنیا نے یہ گر جان لیا کہ ملک کی معاشی ترقی شہروں کی ترقی کے بغیر ناممکن ہے لیکن پاکستان چلانے والے کراچی جیسے معاشی حب کو اپنی تنگ نظری سے تباہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بدقسمت شہر کراچی میں گٹر کے ڈھکن تک نہیں ہیں۔ 76 سالوں میں کوئی نیا شہر نہیں بنایا گیا۔ آج بھی پاکستان کو کراچی کما کر پال رہا ہے۔ پورے ملک کا 60 فیصد ریونیو کراچی سے جمع ہوتا ہے۔ کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے ایشیاء کا گیٹ وے ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد سے سندھ کی آمدنی 8 سو گنا اضافہ ہوا ہے۔سندھ 21-22 کے بجٹ میں آمدنی 1400 ارب ہے جس کے مطابق کراچی کا حصہ 300 ارب بنتا ہے لیکن پچھلے سال کے ریکارڈ کے مطابق کراچی کو صرف 38 ارب ملے اور وہ بھی رشوت اور کرپشن کی نظر ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کا فارمولا ہے کہ زیادہ پیسہ آئے گا تو زیادہ کرپشن ہوگی اور زیادہ پیسہ ملک سے باہر جائے گا۔ پاکستان کو بچانے اور چلانے کا واحد مستقل حل تین آئینی ترامیم ہیں۔1- آئین میں جس طرح وزیر اعظم اور وزراء اعلی کے اختیارات کی تفصیل تحریر ہیں، اسی طرح سے مقامی حکومت کے محکمے آئیں میں درج کردیے جائیں2- این ایف سی ایوارڈ کی طرح PFC ایوارڈ آئین میں درج کردیا جائے۔3- جب تک ملک میں منتخب بلدیاتی حکومت نا ہو تب تک قومی اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں نہیں آسکتی اور پیٹرول مہنگا ہونے سے کسی حکمران خاندانوں کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
اگر خاکم بدہن ملک دیوالیہ ہوگیا تو کسی غریب کو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ غریب تو پہلے ہی مر رہا ہے۔ کراچی پورے ملک کو پالتا ہے اور سب سے زیادہ سیلز ٹیکس دیتا ہے۔ افواج پاکستان کو ملنے والے پیسے کا 60 فیصد کراچی سے ملتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں پیپلز پارٹی کو بلدیاتی قانون بنانے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم ایسے ہی ہے جیسے کسی چور کو کہا جائے کہ قانون بنا کر لاؤ تاکہ تم چوری نہ کرسکو۔ سندھ کے مظلوم عوام کو پیپلزپارٹی کے ظلم سے بچانے کے لئے آج کوئی حکومت یا ادارہ نہیں ہے لیکن اگر یہی غریب مجبور اٹھ کھڑے ہوئے تو ادارے انہیں لاپتہ کرنے والے آجائیں گے اور یہی پیپلزپارٹی ان پر دہشتگردی کا لیبل لگا کر انکے خلاف آپریشن کا مطالبہ کررہی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاک سر زمین پارٹی کے صدر انیس قائم خانی سمیت دیگر مرکزی رہنما بھی موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ کراچی میں بارش کے دوران 47 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، بلوچستان میں بھی بہت ہلاکتیں ہوئی ہیں اور یہ ایک بار نہیں ہر سال ہوتا ہے۔ چودہ سالوں سے پیپلزپارٹی حکمران ہے لیکن اس نے اس دوران کراچی کو اضافی پانی کا ایک قطرہ تک نہیں دیا گیا۔ اندرون سندھ کے عوام نے بہت پہلے پیپلز پارٹی کے سامنے مزاحمت ختم کردی تھی۔ اندرون سندھ کے انتخابات میں ڈاکو اور پولیس ایک ساتھ پی پی پی کی حق میں ٹھپے لگا رہے تھے۔ کراچی اور حیدرآباد کے مساٸل کا حل ہمارے پاس ہے۔ لیکن ہمیں عوام کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ عوام 24 جولائی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پی ایس پی کو ووٹ دے کر کامیاب کریں کیونکہ ہمیں ہی ٹھیک کرنا آتا ہے، عوام خود باہر نکلیں اور پی ایس پی کو اپنے شہروں کا چوکیدار بنائیں۔ حکمران روز خود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے زریعے تجاوزات کروا رہے ہیں۔ تجاوزات کو اقوام متحدہ کی فورس نے ختم نہیں کرنا۔ وزیر اعلی کو اگر یہ نہیں پتہ کہ تجاوزات کون ختم کرے گا تو کیا وہ خبرنامہ پڑھنے کیلٸے ہیں۔ اگر میرے دور میں تجاوزات کے خلاف کام نہ ہوتا تجاوزات ختم نہ ہوتیں تو آج کوئی گھر سے بھی نہ نکل سکتا تھا۔ ایم کیو ایم کے پوسٹر پر ایک جانب نواز شریف اور دوسری جانب ولی خان کی تصویر لگائی ہے۔ ایم کیو ایم کے پوسٹرز ہمارے نظریے کی سچاٸی کی دلیل ہے کہ کراچی کو تقسیم کی نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت ہے۔