Categories
Home News PSP News

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ مہاجر برائے فروخت معاہدہ ہے۔ مصطفی کمال

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ مہاجر برائے فروخت معاہدہ ہے۔ مصطفی کمال

 

*مورخہ: 9 اپریل 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ مہاجر برائے فروخت معاہدہ ہے۔ ایم کیو ایم بازاری پارٹی ہے، جو بڑی بولی لگاتا ہے اسکے ساتھ جاتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بقول شاہد متحدہ اور جمی را ایجنٹس ہیں تو جے آئی ٹی کی رو سے ان کو راء کے ایجنٹ بنانے والے خالد مقبول صدیقی سے نئی حکومت بنانے والے معاہدے کررہے ہیں تو پھر راء کے پیادوں خالد متحدہ اور جمی کو بھی رہا کیا جائے نہیں تو خالد مقبول کو بھی گرفتار کیا جائے۔ عظیم احمد طارق سمیت کئی جے آئی ٹیز کے مطابق خالد مقبول صدیقی مجرم ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا اصل معاہدہ تحریری نہیں بلکہ زبانی ہے جس میں وفاقی اور صوبائی وزارتیں، گورنری، ٹھیکوں کا حصول اور پوسٹنگ ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو معاہدہ باتوں کا ٹونامنٹ ہے، 40 سال میں چوتھی مرتبہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا ذاتی مفادات کے لیے حلالہ ہوا ہے، مہاجروں کو کچھ نہیں ملنے والا۔ 40 سال سے ایم کیو ایم مہاجر قوم کو گدھوں کی طرح نوچ رہی ہے۔ ہم نے چار سال پہلے ہی عمران خان کو مخاطب کرکہ بتا دیا تھا آپکی حکومت رہے یا نا رہے، ایم کیو ایم حکومت کے بغیر نہیں رہ سکتی، ان سب کی جے آئی ٹی بنی ہوئی ہیں، یہ سب جیلوں میں چلے جائیں گے۔ ایم کیو ایم چاہتی تو 4 سال کے دوران عمران خان سے اور اب اپوزیشن سے 3 آئینی ترامیم کرا کر قوم کا بھلا کرسکتی تھی لیکن مہاجروں کو بیچنے والوں کو اپنی گندی سیاست کی بقا کے لیے مہاجروں کا خون چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں سینکڑوں نوجوانوں کی پی ایس پی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس پی نے حکومت میں نا ہوتے ہوئے بھی قوم کے لیے وہ کچھ کیا جو ایم کیو ایم 40 سال حکومت میں رہتے ہوئے نہیں کرسکی۔ 550 لاپتہ مہاجروں میں سے 525 لاپتہ مہاجروں کو ہم نے اپنے کردار کی وجہ سے بازیاب کروایا، اصل لاپتہ مہاجروں کی تعداد کا ایم کیو ایم کو پتہ ہی نہیں۔ جب ہم لاپتہ افراد کو بازیاب کروا رہے تھے تو ایم کیو ایم ہمارے بارے میں کہتی تھی کہ ہم نے مجرمان کے لیے ڈرائی کلین لگائی ہے، اب خود ان لاپتہ افراد کی بازیابی کا معاہدہ کررہے ہیں جنکے خاندانوں سے یہ ملنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور جنکی اکثریت آج اپنے گھروں میں ہے۔ بقیہ 25 لاپتہ مہاجروں کو بھی انشاء الله ہمیں بازیاب کروائیں گے۔