Categories
KARACHI NEWS

عمران خان کی حکومت نے ایم کیو ایم کیساتھ مل کر پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اسکے باسیوں پر شب خون مارا ہے۔ مصطفی کمال

عمران خان کی حکومت نے ایم کیو ایم کیساتھ مل کر پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اسکے باسیوں پر شب خون مارا ہے۔ مصطفی کمال

Homepage

*مورخہ 12 جنوری 2021*

(پریس ریلیز) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے متنازع مردم شُماری کی منظوری کیخلاف 17 جنوری 2021 بروز اتوار دوپہر 2 بجے نرسری شاہراہِ فیصل سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی اور احتجاجی مظاہرے کی نئی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے ایم کیو ایم کیساتھ مل کر پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اسکے باسیوں پر شب خون مارا ہے۔ کراچی کی غلط مردم شُماری کو منظور کرکہ حکومت عوام میں احساس محرومی کو فروغ دے کر دہشتگرد بنانے کا راستہ ہموار کررہی ہے۔ اگر دشمن یہ کام کرے تو سمجھ آتا ہے لیکن پاکستان کی حکومت ہی عوام کی نسل کشی کرے تو کس سے فریاد کریں۔ ملک کی معاشی شہہ رگ کو نقصان پہنچا کر فائدہ صرف ملک کے دشمنوں کو ہوگا۔ کراچی سبکا ہے، اب سب کراچی کے بنیں۔ کراچی پر ظلم کیخلاف احتجاج ہر شہری کا فرض ہے۔ ہم نے غلط مردم شُماری کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو نوٹس لینے کیلئے خط لکھا ہے، چیف جسٹس صرف نادرا کا ڈیٹا منگوا لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ووٹرز لسٹ میں افراد زیادہ اور مردم شُماری میں کم ہیں۔ ایک بار پھر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی کوششیں پھر کی جا رہی ہے لیکن عوام لاتعلق ہے کیونکہ اختیارات اور وسائل پر قابض صوبائی حکومتوں نے عوام تک اختیارات اور وسائل منتقل ہی نہیں ہونے دیے لحاظہ اب وہ کہتے ہیں کہ اگر اختیارات ہمارے پاس نہیں تو ان کے وزراء اعلیٰ کے پاس بھی کیوں ہیں؟ اٹھارویں ترمیم سے صوبے کے وزیراعلیٰ خود مختار ہو گئے، انہوں نے وفاق سے بھی اختیارات لے لیے اور نچلی سطح کے اختیارات بھی اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔ اگر صوبے کے حکمران اٹھارویں ترمیم کو بچانا چاہتے ہیں تو عام آدمی کو بااختیار بنا دیں، وہ خود اس کی حفاظت کریں گا، 25 کروڑ عوام سے اختیارات لینا آسان نہیں۔ اب فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے کہ وہ عوام کو با اختیار بنا کر اختیارات نچلی سطح پر دیں گے یا پھر واپس وفاق کو دینگے۔عمران خان اگر واقعی موروثی سیاست کے خاتمے کے لیے مخلص ہیں تو نئی قیادت پیدا کریں جو صرف بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی اور اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اہلیانِ کراچی کو حکمرانوں اور صاحب اقتدار لوگوں تک اپنی آواز پہنچانی ہوگی۔ مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مردم شُماری کو متنازع رہنے دیں اس پر مہر ثبت نہ کریں، بلدیاتی انتخابات بھی ویسے ہی کرائیں جیسے عام انتخابات کرائے گئے تھے۔ اس کیلئے غلط مردم شُماری کو بغیر آڈٹ کے حتمی تصور کرنے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان 22 سال تک موروثی سیاست کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے رہے لیکن آج جب انہیں موقع ملا ہے تو وہ اپنی کارکردگی سے ان خاندانوں کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسل در نسل ہم پر حکمرانی کرتے رہے، ملک بھر میں بلدیاتی نظام کو غیر فعال کر دیا گیا، پنجاب کے بلدیاتی نمائندوں کو ڈھائی سال قبل ہی بیک جنبش قلم گھر بھیج دیا گیا۔ نواز شریف نے خود کو نکالے جانے پر احتجاج کیا لیکن کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ان بلدیاتی نمائندوں کو کیوں نکالا جس سے عوام کو فائدہ تھا۔ جب تک عوام کو نئے نمائندوں کے آپشن نہیں ملیں گے، موروثی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوگا۔