Categories
خبریں

یک جنبشِ قلم اسٹیل ملز کے ملازمین کو برطرف کردیا گیا، مصطفیٰ کمال

یک جنبشِ قلم اسٹیل ملز کے ملازمین کو برطرف کردیا گیا، مصطفیٰ کمال

Homepage

*مورخہ 28 نومبر 2020*

(پریس ریلیز) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے یک جنبشِ قلم پاکستان اسٹیل ملز کے 4 ہزار 544 ملازمین کو برطرف کردیا ہے۔ حکومت لوگوں کو روزگار دینے کے سنہرے خواب دکھا کر اقتدار میں آئی تھی لیکن ہر وعدے کے بر عکس اس پر بھی یو ٹرن لے لیا ہے۔ نہ حکومتی سطح پر پرائیویٹ انڈسٹری کو کوئی ایسی سپورٹ دی گئی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور نہ ہی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کی افادیت میں اضافے کے اقدامات کیئے گئے۔ موجودہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے انہی اسٹیل مل ملازمین کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی پر استفعی دینے تک کا وعدہ کیا تھا لیکن اب راتوں رات برطرف ملازمین کو بذریعہ ڈاک برطرفی کے خطوط ارسال کردیئے گئے۔ جسکا نتیجے میں آج ایک ملازم موت کی آغوش میں چکا گیا۔ یہ طبعی موت نہیں بلکہ قتل ہے اور اس موت کی زمہ دار وفاقی حکومت ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں حکومت اور اپوزیشن کی رسہ کشی میں ادارے تباہ ہو رہے ہیں، ملک کو ایسے آگے نہیں چلایا جا سکتا، گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی ضرورت ہے۔ ذاتی اناء اور غصے میں کیئے گئے فیصلوں کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔ صاحب اقتدار لوگوں کو مرنا یاد نہیں ہے، عوامی امنگوں کے برخلاف زمینی خدا بن کر لیئے گئے فیصلوں سے صرف تباہی اور بربادی ہی مقدر ہوگی۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے ورنہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں ملک کے منفی کرداروں کے طور پر یاد رکھیں گی جس کا حساب آخرت میں بھی دینا ہوگا۔ اسٹیل ملز ملازمین کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور حکومت سے پھر پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذاتی غصے اور اناء کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد میں آئینی تقاضوں کے مطابق اپوزیشن سے بات کرے اور ملک میں جاری آئینی بحران ختم کر کے گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کی راہ ہموار کرے۔ جس سے قومی سطح پر تمام اداروں کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے اور ملک اور اس کے اداروں کو صحیح سمت میں گامزن کیا جائے۔