Categories
خبریں

کورونا وائرس کے باعث ملک میں صورتحال سنگین ہورہی ہے، مصطفی کمال

کورونا وائرس کے باعث ملک میں صورتحال سنگین ہورہی ہے، مصطفی کمال

Homepage

پاک سر زمین پارٹی

مورخہ 30 مئی2020

پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں صورتحال سنگین ہورہی ہے، پچھلے گیارہ دن میں ملک میں کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلا ہے، تین مہینوں میں عوام کو گمراہ کرنے کے علاؤہ حکمرانوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ قوم اب حکمرانوں سے امید لگانا بند کردے اور اس سنگین صورتحال میں اپنے پیاروں کو نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر ما چھوڑیں۔ ہمیں اپنے اپنے علاقوں میں اپنے لوگوں کو بچانا ہے، یہ ہمارا فرض ہے۔ حالات ٹھیک نہیں ہیں، خدانخواستہ اگلے کچھ دنوں میں اموات تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور ہر یوسی کی سطح پر قرنطینہ مراکز کی ضرورت پڑ سکتی ہے،پی ایس پی کے تمام کارکنان اپنی تیاری آج سے شروع کریں اور دو دن کے اندر کام مکمل کرلیں، اسکے لیے اپنے علاقوں کے اسکول، ہال نظر میں رکھیں۔ حکومت سے کوئی امید نا رکھیں، حکومتی اراکین آج کہیں نظر نہیں آرہے، کرونا مزید پھیل گیا تو ٹی وی پر بھی نظر نہیں آئیں گے۔ہر یونین کونسل کی سطح پر جز وقتی اسپتال بنانے پڑ سکتے ہیں، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں، آج بھی چار ڈاکٹرز موت کے منہ میں چلے گئے۔ ایسے حالات میں بھلے ہماری جانیں چلی جائیں لیکن پی ایس پی جسکے پاس آج ایک کونسلر کی نشست نہیں ہے وہ اپنے لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ ہم اللہ کی مخلوق کی خدمت عین عبادت سمجھ کر کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ دنیا بدل گئی لیکن پاکستان کے سیاست دان نہیں بدلے۔ ان حالات میں بھی مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں، ڈھائی مہینے پہلے کہا کہ وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، ایم این اے، ایم پی ایز یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنرز سے بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ اور اثرات نہیں سنبھلیں گے، اس آزمائش سے نمٹنے کا واحد راستہ یہ تھا کہ ڈیڑھ لاکھ بلدیاتی نمائندوں کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صرف کچھ ماہ کے لیے فعال کردیا جاتا اور تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنے علاقوں کے منتخب نمائندوں کے زیر اثر کام کرتیں تو اس آزمائش سے گزرا جاسکتا ہے کیونکہ فقط یوسی چیئرمین کو ہی اپنے علاقے کی مکمل اور تفصیلی معلومات ہوتی ہیں۔ لیکن وزیراعظم صاحب کو تو سیاست کرنی تھی اس لیے آدھی بات مان لی اور نئی ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کردیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کیا۔
مصطفیٰ کمال نے طیارہ حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دن گزر جانے کے باوجود طیارہ حادثے کے شہدا کی لاشیں اب تک انکے لواحقین کو نہیں دی جا سکیں۔ مائیں اور بہنیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، حکومت ان غمزدہ خاندانوں کو تنگ نا کرئے اور انکے لیے آسانی پیدا کرکہ اللہ کی طرف سے اپنے لیے آسانیاں طلب کریں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان کے بیشتر عوامی مسائل اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم کرکہ حل کیے جاسکتے جس میں پی ایف سی ایوارڈ کا اجراء شامل ہے تاکہ اختیارات اور وسائل نچلی ترین سطح پر منتقل ہوں۔ قانونی اصلاحات کے ذریعے عوام کو نچلی ترین سطح تک بااختیار بنا کر ہی اٹھارویں ترمیم کے ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ادھوری ترمیم کی وجہ سے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ میں جب بھی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی کی بات کرتا ہوں تو سب سمجھتے ہیں کہ مصطفیٰ کمال صرف شہری علاقوں کی بات کرتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے میں پاکستان کے چپے چپے کی بات کرتا ہوں، پورے پاکستان کی ترقی کا راز بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی ہے۔ آج ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے 60 سے زائد اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان حملوں سے وفاقی سطح پر صرف اعلانات کرکہ نمٹا نہیں جاسکتا ہے، اسکو تحصیل اور پنچائت کی سطح پر نافظ العمل ہونا تھا جو نہیں ہوا، اب نقصان قوم بھگتے گی۔ دنیا نے یہ بات تین سو سال پہلے سمجھ لی کہ قوموں کی ترقی کا راز نچلی ترین سطح پر اختیارات اور وسائل کی مکمل منتقلی ہے۔لیکن ہمیں آج بھی سمجھ نہیں آرہی۔ سارے اختیارات اور وسائل ایک وزیر اعظم اور چار وزراء اعلیٰ کے پاس آکر منجمد ہوگئے ہیں، اسی لیے عوام کو آج اٹھارویں ترمیم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ خارجہ، داخلہ اور معیشت کے گھمبیر مسائل سے عام پاکستانی کو کوئی سروکار نہیں، اسکا مسئلہ تو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیورج، علاقے کی سڑکیں، اسکے بچوں کی تعلیم، بیماری کی صورت میں علاقے کی ڈسپینسری میں ڈاکٹر اور دوا کا ملنا، تھانے میں بغیر رشوت اور سفارش ایف آئی آر کا کٹنا اور اپنے ہی علاقے میں چھوٹی سی ملازمت کا حصول ہے۔