ہم ہر پاکستانی کے لیے بہتر، منصفانہ اور روشن مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہماری توجہ نچلی سطح کے مسائل پر ہے، ہمیں اپنے ملک کو واپس لینے کے لیے ہر جگہ منظم کرنے میں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ .

ہم ٹھیک کردیں گے#

مزید پڑھیں

پی ایس پی ٹیم سے ملیں

PSP

ہماری ٹیم

مزید

PSP

صدر کا پیغام

اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ، دن بدن ، پی ایس پی طاقت حاصل کر رہا ہے اور ایک تیز رفتار رفتار سے پورے ملک میں اس کے نیٹ ورک کو بڑھا رہا ہے۔ ہمارے گڑھ کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے علاوہ ،

مزید

PSP

چیئرمین کا پیغام

اسلم اللیکم! آج ، پاکستان کو اس وقت اصلاح اور اصلاحات کے لئے ایک تاریخی راستہ متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ایک طاقتور قوم ریاست کے طور پر طاقتور طریقے سے نئے طلوع فجر تک پہنچیں۔

مزید

ہماری توجہ اصلی مسائل پر ہے

پی ایس پی پاکستان کے مستقبل کے لئے کام کر رہی ہے۔ ہم آپ کی ترجیحات پر توجہ دے رہے ہیں

ہمارا منشور پڑھیں

جو تبدیلی آپ دیکھنا چاہتے ہیں وہ خود بنیں

ہم آپ کے تعاون کے بغیر یہ نہیں کر سکتے ہیں۔

آن گراؤنڈ مہم میں شامل ہوں

زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ہمیں گراؤنڈ پر ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت ہے۔

آن گراؤنڈ کمپین کیلئے سائن اپ کریں

ڈیجیٹل سفیر بنیں

ہم لاکھوں ووٹروں سے آن لائن بات کر سکتے ہیں۔ تو ان تک پہنچنے میں ہماری مدد کریں۔

ڈیجیٹل سفیر بننے کے لئے سائن اپ کریں

What we stands for

PSP is commited with performance and here are the key facts

[slide-anything id=”429″]

پی ایس پی نیوز

*مورخہ: 19 نومبر، 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران خان خود اپنے سب سے بڑے دشمن ہیں، بین القوامی میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ میرے ملک کے اداروں، میرا وزیراعظم اور میرا وزیر داخلہ مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہیں، اسطرح کے بیانات سے عمران خان دنیا بھر میں پھیلے پاکستان دشمن ایجنسیوں کو ملک میں خانہ جنگی پھیلانے کے لیے اپنے ہی قتل کا سنہری موقع فراہم کردیا ہے، جسکا الزام وہ پہلے ہی ملک کے اداروں، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پر لگا چکے ہیں۔ جس فوج نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے خود کو بدنام کرلیا، عمران خان آج اقتدار سے الگ ہونے پر اسی فوج کے اتنے خلاف ہوگئے کہ ملک کو نقصان پہنچانے لگے۔ توشہ خانے کی گھڑیوں کے افسوسناک واقعات نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے پاکستانی ہونے کے ناطے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم نے وہ گھڑیاں چوری کی ہوں۔ پچھلے 71 سالوں میں پاکستان کا قرضہ 31 کھرب تھا لیکن عمران خان نے صرف پونے چار سال میں پاکستان کے قرضوں میں 32 کھرب قرضے کا مزید اضافہ کردیا اور آج پاکستان کا قرضہ 63 کھرب ہوچکا ہے۔عمران خان قوم کو ریاست مدینہ سنائیں نہیں بلکہ دکھائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی اور اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ لاالہ الااللہ ہر بات سے آزاد نہیں بلکہ اللہ کے نظام کا پابند کرتا ہے، لاالہ الااللہ یہ نہیں کہتا ہے کہ آپ رانا ثنا اللہ کی گاڑی میں ہیروئن رکھوا دیں، نیب کے چئیرمین کی نازیبا وڈیو بنوا کر اپنے مخالفین پر مقدمات بنوائیں۔ تمام مخالف سیاستدانوں اور میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو جیلوں میں بند کروا دیا جو آپکے ہی دور اقتدار میں عدالتوں سے بری ہو گئے۔ قرآن جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت دیتا ہے اور نبی کریم حضرت محمدﷺ کی حدیث کے مطابق مسلمان جھوٹ نہیں بول سکتا لیکن عمران خان سارا دن جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ 90 دن میں کرپشن ختم کردیں گے، نہیں کی! 50 لاکھ گھر بنا کر دینگے، نہیں دیے۔ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، نہیں دیں! آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے، قرضہ لیا! وزیر اعظم اور وزراء اعلیٰ ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیں گے، نہیں کیا۔ جس پیپلز پارٹی کی قیادت کو برا بھلا بولتے نہیں تھکتے وقت پڑنے پر انہی سے سینٹ کا چئیر مین بنانے کے لیے ووٹ لیئے۔ جس زہرہ شاہد کے قتل کا زمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیتے تھے وزیراعظم بننے کے لیے اسی ایم کیو ایم کو نفیس لوگ قرار دیا۔ جب تک جہانگیر ترین، علیم خان اور عون چودھری عمران خان کے لیے پیسے اور ایم پی ایز، ایم این ایز کو توڑ توڑ کر لاتے رہے وہ مثالی کردار کے حامل تھے، لیکن مطلب نکل جانے پر وہ سب کرپٹ اور فراڈ ہوگئے، اس لیے کل آپ کے پاس پھر وزارت عظمیٰ آگئی تو عمران خان آج جس مرحوم ارشد شریف، اعظم سواتی اور شہباز گل پر دن رات سیاست کررہے ہیں، انکا نام بھی نہیں لیں گے۔ گزشتہ 14 سال سے ٹی وی پر صرف عمران خان ہیں، جو بچہ چودہ سال پہلے 4 سال کا تھا آج وہ 18سال کا ہوگیا اور آج عمران خان اسی ٹی وی پر بیٹھ کر مسلسل جھوٹ بول کر اداروں کو بدنام کررہے ہیں رہے ہیں۔ عمران خان جیل کے حالات بتا رہے ہیں تو جیل خانہ جات صوبائی معاملہ ہے، خیبرپختونخوا میں 10 سال سے اور پنجاب میں 5 سال سے عمران خان کی صوبائی حکومت ہے، اس حساب سے تو جیلوں میں ایک بھی مظلوم اور بے بس انسان کو نہیں بلکہ سارے کرپٹ لوگوں کو بند ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ مقبولیت حق پر ہونے کا پیمانہ نہیں ہے، فرعون اور یزید بھی اپنے دور میں مقبول اور طاقتور ترین تھے لیکن دونوں کے حصے میں ذلت آئی کیونکہ عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ ہے، عوامی مقبولیت نہیں!

*مورخہ: 15 نومبر، 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سرزمین پارٹی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر ارشد وہرا نے کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی انجن کراچی موجودہ اور سابقہ نااہل، کرپٹ اور متعصب حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ایک جانب تباہی کا شکار ہوچکا ہے تو دوسری جانب سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا ہے۔ بنیادی سہولیات کے فقدان اور انفرا اسٹرکچر کی زبوں حالی کی وجہ سے کارخانے یا تو بند ہو رہے ہیں یا پھر معیشت کا پہیہ چلانے کی خاطر مہنگے وسائل استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ کراچی کی فیکٹریوں کو گیس کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے بوائلرز چلانے کے لیے ایندھن کے طور پر مجبوراً کوئلے اور لکڑیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے ناصرف کاروباری لاگت میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے بلکہ انتہائی شدید ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی نصف سے زائد برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور صنعتی شعبے سمیت گھریلو صارفین کو گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا جس سے امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔

 

*مورخہ: 14 نومبر، 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سر زمین پارٹی کے وائس چیئرمین شبیر احمد قائم خانی نے کہا کہ پی ایس پی کے وائس چیئرمین شبیر قائم خانی نے کہا کہ جس حساب سے شہر کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے کالجز کا قیام ناگزیر ہے بصورت دیگر تعلیم کی کمی معاشرتی برائیوں کا سبب بنتی ہے۔ نوجوانوں کی تعلیم ملک کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینجنگ ڈائریکٹر (MD) سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (STEVTA) ڈاکٹر مصطفیٰ سہاگ سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کراچی (ضلع وسطی) میں موجود ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس میں طلبہ و طالبات کے داخلہ برائے سیشن ۲۰۲۲-۲۰۲۳ پر اور آبادی کے لحاظ سے نئے سرکاری ٹیکنکل کالجز کے قیام پر تفصیلی گفتگو کی، جس پر MD STEVTA سمیت تمام ڈاریکٹرز نے یقین دہانی کروائی۔ ملاقات میں شبیر قائم خانی کے علاؤہ پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اعلیٰ سطحی وفد میں ممبر نیشنل کونسل و صدر پاک سرزمین اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پاکستان)انجینئر سید عثمان، جوائنٹ انچارجز میں سفیر احمد،رضا قادری اور دیگر بھی شامل تھے۔

*مؤرخہ: 12 نومبر، 2022*

(پریس ریلیز)

پاک سر زمین پارٹی کے وائس چیئرمین شبیر قائم خانی نے کہا کہ اختیارات اور وسائل پر قابض پیپلز پارٹی کی نااہل، کرپٹ، متعصب اور ظالم حکومت مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے ناصرف نابلد ہے بلکہ مسائل کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرکہ مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے۔ مجاہد کالونی ناظم آباد نمبر 7 کے غریب مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کئے بغیر غریبوں کے گھروں کو مسمار کرنا سراسر زیادتی ہے کیونکہ یہ ہزاروں افراد ہوا میں تحلیل نہیں ہوجائیں گے، یہ کسی اور جگہ کو انکروچ کریں گے۔ جس طرح سید مصطفی کمال کے دورِ نظامت میں لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران 34 ہزار گھروں کو منہدم کرنا پڑا تھا لیکن تمام مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کی گئی۔ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے وقت ریاست، عدلیہ اور بلدیاتی حکومت نے ہزاروں گھر منہدم کرنے سے پہلے متاثرین کے لئے بنیادی سہولیات سے آراستہ 3 آبادیاں بنائیں گئیں، عین اسی طرح مجاہد کالونی کے مکینوں کو بھی متبادل جگہ آباد کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجاہد کالونی میں اہلیان مجاہد کالونی کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شبیر قائم خانی کی قیادت میں پی ایس پی کے وفد نے پی ایس پی کی جانب سے اہلیان مجاہد کالونی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ شبیر قائم خانی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مسائل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ کرنے کی بجائے مجاہد کالونی کے مسئلے کو سید مصطفی کمال کےدورِ نظامت کے لائحہ عمل پر عملدرآمد کرتے ہوئے مجاہد کالونی کے مکینوں کو بھی متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

#HumHainPakistan

PSP

Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui

PSP

Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui

PSP

Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui

PSP

Excepteur sint occaecat cupidatat non proident, sunt in culpa qui